نظام وصیت

by Other Authors

Page 54 of 260

نظام وصیت — Page 54

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 54 فضل کی بارشیں نازل کی ہوں اس مقام کی برکات کبھی مٹ ہی نہیں سکتیں۔آپ لوگوں نے یہ کیوں سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے پاس اتنی تھوڑی برکتیں ہیں کہ اگر وہاں برکتیں نازل کرے گا تو یہاں نہیں کرے گا۔وَمَا يَعْلَمُ جُنُودُرَتِكَ إِلَّا هُوَ خدا تعالیٰ کے فضل تو اس قدر ہیں کہ اگر زمین کا چپہ چپہ بھی بہشتی مقبرہ بن جائے تو پھر بھی وہ فضل بچاہی رہے گا۔ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کی نعش قادیان جائے گی۔مگر وہ صرف اپنی برکتیں لے جائے گی اس مقام پر اسی طرح اس کی برکتیں نازل ہوتی رہیں گی جس طرح اب نازل ہو رہی ہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے مگر مدفون مدینہ میں ہیں۔پس جو خدا مکہ سے اپنی برکتوں کو بچا کر مدینہ لے گیا اور اس نے مدینہ کو بھی با برکت کر دیا اسی خدا نے اس زمانہ میں قادیان کو بھی بابرکت کیا اور پھر قادیان کی برکتوں سے بچا کر اس نے ربوہ کو بھی بابرکت کر دیا۔اس قسم کے خیالات محض لوگوں کے اپنے اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم غریب ہیں اسی طرح نَعُوذُ بِاللہ خدا بھی غریب ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ مسلمانوں کی بادشاہی کے زمانہ میں ایک نائی جو امرا کی حجامتیں بنایا کرتا تھا اسے ایک دفعہ کسی امیر نے دوسو اشرفی انعام دے دی۔چونکہ دوسو اشرفی کی تھیلی اسے یکدم ملی اس لئے وہ ہر وقت اسے اچھالتا رہتا اور جب بھی کوئی شخص ملتا اور پوچھتا کہ سنائے شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ بغداد کا کوئی ہی بدقسمت ہوگا جس کے پاس دوسو اشرفی بھی نہ ہو۔چونکہ وہ امراء کا نائی تھا اس لئے وہ تھیلی کے متعلق زیادہ احتیاط نہیں کرتا تھا۔ایک دفعہ کسی امیر کو مذاق سوجھا اور اس نے چپکے سے وہ تھیلی کھسکا لی۔اب وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ڈرتا تھا کہ امراء اسے کہیں گے کہ تو ہم پر چوری کا الزام لگاتا ہے مگر دوسری طرف اسے صدمہ بھی سخت تھا۔آخر غم کے مارے وہ بیمار ہو گیا۔جب لوگ اسے پوچھنے جاتے اور دریافت کرتے کہ بتلائیے اب شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ شہر کا کیا پوچھتے ہو وہ تو بھو کا مر رہا ہے۔آخر اس امیر نے تھیلی نکال کر دے دی اور کہا شہر کو بھوکا نہ مارو اور اپنی تھیلی لے لو۔پس اپنی کمزوریوں پر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا کیوں اندازہ لگاتے ہو۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ جگہ جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل اور خادم پیدا ہوں۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم جگہ جگہ مقام ابراہیم پیدا کر دیں، خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے کونے کونے