نظام وصیت — Page 216
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 216 ستیاں ترک کریں اور اس نظام میں شامل ہو جائیں ما بنامه انصار الله وصیت نمبر کے لئے خصوصی پیغام (جون 2005) : میں اپنے انصار بھائیوں اور خاص طور پر صف دوم کے انصار کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس طرف خاص توجہ دیں۔وہ انصار جو اپنے دلوں میں ایمان اور اخلاص تو رکھتے ہیں مگر وصیت کے بارہ میں ستی دکھلا رہے ہیں میری ان کو یہ نصیحت ہے کہ وہ اشاعت (دین) کی خاطر اور اپنے نفوس میں نیک اور پاک تبدیلیوں کے لئے وصیت کی طرف جلدی بڑھیں۔زندگی بہت مختصر ہے اور نہیں معلوم کہ کس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آ جائے۔بعض بڑے مخلصین بغیر وصیت کے نظام میں شامل ہوئے۔وفات پا جاتے ہیں اور پھر حسرت پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بھی مخلصین کے ساتھ مقبرہ موصیان میں دفن کئے جاتے۔ہماری جماعت میں سینکڑوں ایسے قربانی کرنے والے ہیں کہ وہ اپنے اموال کے دسویں حصہ سے زیادہ چندہ دیتے ہیں اور مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر وصیت کرنے میں سستی کرتے ہیں۔ایسے دوستوں کو میرا یہ پیغام ہے کہ وہ سستیاں ترک کریں اور اس نظام میں شامل ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔انصار کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنی بیویوں اور اپنی اولا دوں کو بھی دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے لئے تیار کریں۔اپنے بچوں کی بچپن سے ہی دینی ماحول میں تربیت کریں۔نمازوں کی عادت ڈالیں۔مالی قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اقدس مسیح موعود اور نظام خلافت سے محبت اور اطاعت کا جذبہ ان میں اجاگر کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔اپنی نسلوں کو دنیا کے عذاب سے بچانے والے ہوں گے۔روز نامه الفضل 13 مارچ 2008 صفحہ 4