نظام خلافت — Page 89
89 کہ وہ اپنی انانیت کے لبادہ کو تار تار کر کے، اپنے وجود کوکلیۂ فراموش کرتے ہوئے، خلیفہ وقت کے ہر اشارے پر اس کو قربان کر دیتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہی بات کن خوبصورت الفاظ میں بیان فرمائی۔آپ نے فرمایا: ” بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے کے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اس کا اپنا کچھ نہیں رہتا (خطبات نور صفحہ ۱۷۱) اطاعت کے اس مقام کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھاتا ہے اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے۔اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے۔اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے۔اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے اور اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جا ئیں تو ان کے لئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: روزنامه الفضل قادیان ۴ ستمبر ۱۹۳۷) یاد رکھو۔۔۔۔ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے