نظام خلافت — Page 49
49 محروم نہ رہے۔66 شہادت القرآن صفحه ۵۷ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۳) نبی اور خلیفہ کا انتخاب یہ نکتہ یادر کھنے کے لائق ہے کہ نبوت وخلافت کے دونوں نظام اگر چہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں لیکن ان میں ایک بنیادی فرق ہے۔نبوت اس وقت آتی ہے جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر چکی ہوتی ہے۔ہر طرف شرک اور ظلمت کا دور دورہ ہوتا ہے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اولی کی تجلی نبوت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ کی قدرت ثانیہ کی تجلی خلافت کی صورت میں اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب نبی کے ذریعہ قائم ہونے والی ایک جماعت موجود ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح کی شرائط پر پوری اترتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبی اور خلیفہ کے انتخاب کے طریق میں بھی ایک فرق ہے۔نبی کا انتخاب اللہ تعالیٰ براہ راست کرتا ہے کیونکہ ظلمت کے اس دور میں جماعت مومنین کا وجود ہی نہیں ہوتا جبکہ نبی کے آنے کے بعد مومنین کی ایک جماعت بن جاتی ہے اور نبی کی وفات پر خدا تعالیٰ بطور احسان اس جماعت میں خلافت کا نظام قائم فرماتا ہے۔اور ایمان اور عمل صالح کی شرائط کو عند اللہ تسلی بخش طریق پر پورا کرنے والی جماعت کو بطور اعزاز یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ خلیفہ کے انتخاب کے وقت اپنی رائے کا اظہار کرے۔