نظام خلافت — Page 16
16 اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تر ڈو میں پڑ جاتے ہیں ور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے معجزہ کو دیکھتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت مے کی موت ایک بے وقت موت کبھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ امنا۔یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔“ (رسالہ الوصیت صفحہ : کے روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۴، ۳۰۵) اللہ تعالیٰ کی یہ زبردست قدرت ثانیہ خلافت کا وہ با برکت روحانی نظام ہے جس پر نبوت کے بعد اسلام کی ترقی کا انحصار اور اس کے غلبہ کا دارو مدار ہے۔یہی بابرکت نظام ، نبوت کا قائمقام اور ہر نوع کی ترقیات کی حتمی ضمانت ہے۔یہی وہ موعود آسمانی