نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 66
۴۵ اور الفاظ میرا ساتھ نہیں دیتے کہ کس طرح خلافت احمدیہ کے ذریعہ ہونے والی اسلام کی عالمگیر روز افزوں ترقی کونوک قلم پر لاؤں۔حق یہ ہے کہ خدمت واشاعت اسلام کا جو بیج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس ہاتھوں سے بویا گیا آج خلافت احمد یہ کے زیر سایہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔پاکیزہ کلمہ کی مثال کی طرح اس درخت کی جڑیں اکناف عالم میں مضبوطی سے قائم ہو چکی ہیں۔اور اس کی شاخوں نے فضا کی وسعتوں کو بھر دیا ہے۔ہندوستان کی سرزمین سے باہر مشنوں کے قیام کا آغاز خلافت احمدیہ کے دور میں ہوا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۱۸۵ ملکوں میں جماعت احمدیہ با قاعدہ طور پر قائم ہو چکی ہے۔وہ قافلہ جو ۴۰ فدائیوں کے ساتھ روانہ ہوا تھا آج اس کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر روز بڑھتی چلی جاتی ہے۔قادیان کی گمنام بستی سے اٹھنے والی آواز کی بازگشت آج اکناف عالم میں سنائی دے رہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو اتنی عظمت اور پذیرائی عطا کی ہے کہ اقصائے عالم کے دانش ور اس کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اسے توجہ سے سنتے اور اس کی صداقت کا اعتراف کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔لٹریچر کے ضمن میں سب سے اہم قرآن مجید کے تراجم ہیں۔کیا یہ بات معجزہ سے کم ہے کہ گزشتہ تیرہ سوسال میں ساری دنیا کے مسلمانوں نے جتنی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم کئے تھے اس سے دگنی زبانوں میں تراجم جماعت احمدیہ پیش کرنے کی سعادت پارہی ہے۔قرآن مجید کی منتخب آیات، احادیث اور اقتباسات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کی ایک سو سے زائد زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔اسلامی لٹریچر غیر معمولی کثرت سے شائع اور تقسیم ہورہا ہے۔کتب کی نمائشوں کا وسیع سلسلہ اشاعت اسلام میں مؤثر