نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 447
۴۲۶ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے میر ان کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامت خلیفہ اسیح والمہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر بیعت کریں“۔( بدر ۲ جون ۱۹۰۸ء) محترم خواجہ صاحب نے بعد ازاں یہ بھی تسلیم کیا کہ ” جب میں نے بیعت ارشاد کی۔۔۔یہ بھی کہا کہ میں آپ کا حکم بھی مانوں گا اور آنے والے خلیفوں کا حکم بھی مانوں گا“۔(لیکچر اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب ص ۶۹۔۷ دسمبر ۱۹۱۴ء) ایک فیصلہ کن سوال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک بار قادیان میں خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ:۔اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال ہے جو ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے اور ہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ یہی لوگ جو آج کہتے ہیں کہ الوصیت سے خلافت کا کہیں ثبوت نہیں ملتا ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے ایک اعلان شائع کیا ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے وقت انہوں نے کیا۔۔۔بیس جماعت کے دوستوں کو ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہئے اور پوچھنا چاہئے کہ تم ہمیں الوصیت کا وہ حکم دکھاؤ جس کے مطابق تم نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔اس کے جواب میں یا تو وہ یہ کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا اور یا یہ کہیں گے کہ الوصیت میں ایسا حکم موجود ہے اور یہ دونوں صورتیں ان کے لئے کھلی شکست ہیں“۔الفضل ۲۱ شہادت ، اپریل ۱۹۴۰ء/ ۱۳۱۹ ہش ص ۶ خطبہ جمعہ حضرت مصلح موعود )