نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 27 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 27

کی غرض سے ہو اس آخری معنی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کو زمین میں خلافت بخشی۔4 - اقرب الموارد میں الخِلَافَةُ “ کے درج ذیل معنی بیان کئے گئے ہیں:۔(۱) الْإِمَارَةُ (حکومت)، (۲) النِّيَابَةُ عَنِ الْغَيْرِ إِمَّا لِغَيْبِهِ الْمَنُوبِ عَنْهُ اَوْلِمَوْتِهِ أَوْ لِعَجْزِهِ اَوْ لِتَشْرِيفِ الْمُسْتَخْلَفِ۔یعنی دوسرے کی نیابت کرنا خلافت کہلاتا ہے۔خواہ وہ نیابت جس کی نیابت کی گئی ہو اس کی غیر حاضری کی وجہ سے ہو یا موت یا کام سے عجز کی وجہ سے ہو۔اور بعض اوقات یہ نیابت صرف عزت افزائی کے لئے ہوتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو زمین پر خلیفہ بناتا ہے تو یہ صرف ان کے اعزاز کی خاطر ہوتا ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔(۳) اور شرعی معنی خلافت کے امامت کے ہیں۔خلافت کی تعریف:۔لغت عرب کی رو سے خلافت ایک عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی کسی کے پیچھے آنے یا کسی کا قائمقام بنے کسی کا نائب ہو کر اس کی نیابت کے فرائض سرانجام دینے کے ہیں۔خلیفہ کے لغوی معنی خلیفہ خلافت سے مشتق ہے۔جس کی جمع خلفاء اور خلائف ہے۔عربی لغت کی رُو سے جو کسی کا قائمقام ہوتا ہے۔وہ اس کا خلیفہ کہلاتا ہے۔لغت عرب کی معروف کتب میں’خلیفہ کے درج ذیل معانی لکھے ہیں۔ا۔اقرب الموارد میں لکھا ہے۔