نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 168
پس اس حدیث سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خلیفہ معزول نہیں کیا جاسکتا۔یہ عہد روحانی ہے، جس سے کسی کو بنانے کا کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الاول فر ماتے ہیں:۔خدا نے جس کام پر مجھے مقرر کیا ہے میں بڑے زور سے خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اب میں اس گرتے کو ہر گز نہیں اتار سکتا۔اگر سارا جہان بھی اور تم بھی میرے مخالف ہو جاؤ تو میں تمہاری بالکل پرواہ نہیں کرتا اور نہ کروں گا۔خدا کے مامور کا وعدہ ہے اور اس کا مشاہدہ ہے کہ وہ اس جماعت کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔اس کے عجائبات قدرت بہت عجیب ہیں اور اس کی نظر بہت وسیع ہے۔تم معاہدہ کا حق پورا کرو پھر دیکھو کس قدر ترقی کرتے ہو اور کیسے کامیاب ہوتے ہو۔“ (خطبات نورص ۴۱۹) مزید فرماتے ہیں:۔پس جب میں مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہوگا جس کو خدا چاہے گا۔خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں تم خلافت کا نام نہ لو مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور و دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزاد دیں گے“۔(بدرہ جولائی ۱۹۱۲ء) حضرت خلیفہ اسیح الثانی اس مسئلہ کے بارہ میں فرماتے ہیں:۔خلیفہ خدا ہی بناتا ہے اور اس کی طاقت ہے کہ معزول کرے۔کسی انسان میں نہ خلیفہ بنانے کی طاقت ہے نہ معزول کرنے کی“۔(آئینہ صداقت۔انوار العلوم جلد ۶ ص ۱۶۸) اسی طرح فرمایا:۔