نصاب وقف نو — Page 62
62 س: وضو کے متعلق تو ہم کتاب میں پڑھ چکے ہیں۔مگر تیم کیوں کیا جاتا ہے؟ ج: جب وضو کے لیے پانی نہ ملے یا آدمی بیمار ہو اور پانی کے استعمال سے تکلیف ہوتی ہو اور بیماری بڑھ جانے کا خطرہ ہوتو اس وقت تیم کیا جاتا ہے گویا یہ وضو کا قائمقام ہے س: تیم کس طرح کیا جاتا ہے؟ ج: تیم کا طریق یہ ہے کہ دونوں ہاتھ پاک مٹی کے اوپر ایک بار مار کر چہرے پر ملے جائیں اور پھر دوسری دفعہ ہاتھ مار کر کہنیوں تک یا صرف پہنچوں تک مل لئے جائیں۔ایک بار ہاتھ مار کر چہرے پر مل لینا اور ہاتھ ایک دوسرے پر پھیرنا بھی کافی ہے۔اگر ہاتھوں پر مٹی زیادہ لگ جائے تو جھاڑ دینا چاہیے۔مٹی نہ ملے تو ریت یا پتھر پر بھی تیم کیا جاسکتا ہے۔تیتیم کے متعلق ایک ضروری بات یہ بھی یادر کھنی چاہیے کہ اگر تمیم کے بعد پانی مل جائے یا جس عذر کی وجہ سے تیم کیا تھا وہ دُور ہو جائے تو پھر وضو کرنا ضروری ہے لیکن اگر تیم کے ساتھ نماز پڑھ چکنے کے بعد پانی ملے تو دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنا ضروری نہیں۔س تیم کن باتوں سے ٹوٹتا ہے؟ ج: جن باتوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے وہی باتیں تیم کے ٹوٹنے کا باعث بنتی ہیں۔پیشاب کرنے سے اور پاخانہ کرنے سے۔ہوا خارج ہونے سے۔لیٹ کر یا کسی چیز سے ٹیک لگا کر سو جانے سے۔بیہوش ہو جانے سے نیز خون بہنے سے۔کامیابی کی راہیں جلد 2 صفحہ 42,41)