نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 30

نصائح مبلغین — Page 27

27 اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر : ۱۹) اے مومنو! تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اور وہ تقویٰ یوں حاصل ہوگا کہ ہر جان نظر کرتی رہے کہ اس نے کل کے لئے کیا کیا اور اللہ کا تقویٰ اختیار کر واللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے خبر رکھنے والا ہے۔جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا انگران حال ہے اور اپنے اعمال پر نظر ثانی کرتا ہے اور دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے روز فردا کے لئے کیا تیاری کی ہے وہ متقی بن جاتا ہے۔تیسرا ذریعہ: گناہوں پر پشیمانی یعنی تو بہ ہے۔التَّائِبُ مِنَ الذِّنْبِ كَمَنْ لا ذنب له (ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذكر التوبہ ) جو شخص اپنے گناہوں پر پشیمانی کا اظہار کرتا ہے۔وہ ان کے بدنتائج سے محفوظ رہتا ہے۔اور آئندہ کے لئے نیکی و تقویٰ کے واسطے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے اور شیطان کے مزید حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔حضرت معاویہ کی نماز فجر قضاء ہوگئی اس پر ان کو اس قدر پشیمانی ہوئی اور اس قدر وہ خدا کے حضور روئے اور چلائے کہ انہیں ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب ملا۔دوسرے روز کسی نے انہیں اٹھایا ، پوچھا تو کون؟ کہا میں تو شیطان ہوں۔انہوں نے تعجب کیا کہ نماز کے لئے شیطان بیدار کرے۔اس نے کہا اگر میں نہ اٹھاؤں تو آپ ایک نماز کے بدلے دس نمازوں کا ثواب پائیں۔غرض تم اپنی کسی لغزش پر اس قدر پشیمانی ظاہر کرو کہ تمہارا شیطان مسلمان ہو جائے۔چوتھا ذریعہ : تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا رہے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رات بھر سوچتا رہے اور کہے کہ ابن عمر میرا کام کر دے گا تو خواہ مخواہ میری توجہ اس طرف ہو گی۔اسی طرح جو انسان اللہ تعالیٰ کو اپنا سہارا ہر امر میں