نماز — Page 52
۔”سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو۔کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ہماری دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه :۳۰) ”خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے جیسے سمندر میں ایک جوش ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۳ صفحه : ۱۲۷)۔" حضرت یعقوب علیہ السلام۔۔۔چالیس برس تک۔۔۔دعائیں کرتے رہے۔۔۔آخر چالیس برس کے بعد وہ دعا ئیں کھینچ کر یوسف علیہ السلام کو لے ہی آئیں۔“ 66 (ملفوظات جلد ۲ صفحه : ۱۵۲)۔دعا صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ دعاوہ ہے کہ جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن جا۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه : ۱۰۷)۔دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحه : ۴۵۵) (52)