نماز عبادت کا مغز ہے — Page 7
7 حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا : ”اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے سے تم آسمان پر نجات یافتہ لکھے جاؤ گے تو یہ خیال غلط ہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب تک زمین پر تم خدا کی عبادت کو قائم نہیں کرو گے آسمان پر تم نجات یافتہ نہیں لکھے جاؤ گے اس لیے زمین پر عبادتوں کو قائم کرو۔(خطبہ جمعہ 17 جون 1988ء، از المفضل 19 اپریل 2004 ) حضرت خلیفۃ اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر و العزيز فرماتے ہیں: نمازیں نیکی کا بیج ہیں پس نیکی کے اس پیج کو ہمیں اپنے دلوں میں اس حفاظت سے لگانا ہوگا اور اس کی پرورش کرنی ہوگی کہ کوئی موسمی اثر اس کو ضائع نہ کر سکے۔اگر ان نمازوں کی حفاظت نہ کی تو جس طرح کھیت کی جڑی بوٹیاں فصل کو دبا دیتی ہیں یہ بدیاں بھی پھر نیکیوں کو دبا دیں گی۔پس ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی اس طرح حفاظت کریں اور انہیں مضبوط جڑوں پر قائم کر دیں کہ پھر یہ شجر سایہ دار بن کر ایسا درخت بن کر جو سایہ دار بھی ہو اور پھل پھول بھی دیتا ہو ، ہر برائی سے ہماری حفاظت کرے۔پس پہلے نمازوں کے قیام کی کوشش ہوگی۔پھر نمازیں ہمیں نیکیوں پر قائم کرنے کا ذریعہ بنیں