نماز عبادت کا مغز ہے — Page 66
66 حاصل ہوتی ہیں اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہوگا۔اگر ٹھوک یا پیاس لگی ہو تو ایک لقمہ یا ایک گھونٹ سیری نہیں بخش سکتا۔پوری خوراک ہوگی تو تسکین ہوگی۔اسی طرح ہوگی ناکارہ تقویٰ ہرگز کام نہ آوے گا۔خدا تعالی انہیں سے محبت کرتا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔لن تنالو البر حتى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ 0 ( آل عمران : 93) کے یہ معنی ہیں کہ سب سے عزیز شئے جان ہے۔اگر موقع ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دے دی جاوے۔نماز میں اپنے اوپر جو موت اختیار کرتا ہے وہ بھی ہر کو پہنچتا ہے۔برکات نماز کا حصول ( ملفوظات جلد سوم ص 627) اسمیں شک نہیں کہ نماز میں برکات ہیں مگر وہ برکات ہر ایک کو نہیں مل سکتے۔نماز بھی وہی پڑھتا ہے جس کو اللہ تعالی نماز پڑھاوے ورنہ وہ نماز نہیں برا پوست ہے جو پڑھنے والے کے ہاتھ میں ہے۔اس کو مغز سے کچھ واسطہ اور تعلق ہی نہیں۔اسی طرح کلمہ بھی وہی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالی کلمہ پڑھوائے۔جیتک