نماز عبادت کا مغز ہے — Page 194
194 باب XXII نماز عربی زبان میں پڑھنی چاہیے نماز اپنی زبان میں نہیں پڑھنی چاہیے۔خدا تعالیٰ نے جس زبان میں قرآن شریف رکھا ہے۔اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔ہاں اپنی حاجتوں کو اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے سامنے بعد مسنون طریق اور اذکار کے بیان کر سکتے ہیں۔مگر اصل زبان کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے۔عیسائیوں نے اصل زبان کو چھوڑ کر کیا پھل پایا، کچھ باقی نہ رہا۔( ملفوظات جلد دوم: ص216) عربی کے بجائے اپنی زبان میں نماز پڑھنا درست نہیں سائل: ایک شخص نے رسالہ لکھا تھا کہ ساری نماز اپنی ہی زبان میں پڑھنی چاہیے۔حضرت اقدس : وہ اور طریق ہوگا جس سے ہم متفق نہیں۔قرآن شریف بابرکت کتاب ہے اور رب جلیل کا کلام ہے۔اس کو چھوڑ نا نہیں چاہیے۔ہم نے تو اُن لوگوں کے لیے