نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 188 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 188

188۔انسان غفلت اور کسل سے خالی نہ ہو تو وہ قبولیت کے قابل نہیں ہوا کرتی۔اگر انسان ایک ایسا کھانا کھائے جو کہ بظاہر تو میٹھا ہے مگر اس کے اندر زہر ملی ہوئی ہے۔تو مٹھاس سے وہ زہر معلوم تو نہ ہوگا مگر پیشتر اس کے کہ مٹھاس اپنا اثر کرے زہر پہلے ہی اثر کر کے کام تمام کر دے گا یہی وجہ ہے کہ غفلت سے بھری ہوئی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ غفلت اپنا اثر پہلے کر جاتی ہے۔یہ بات بالکل ناممکن ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بالکل مطیع ہو اور پھر اس کی دُعا قبول نہ ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کے مقررہ شرائط کو کامل طور پر ادا کرے۔جیسے ایک انسان اگر ڈور بین سے دُور کی شئے نزدیک دیکھنا چاہے تو جب تک وہ دور بین کے آلہ کو ٹھیک ترتیب پر نہ رکھے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔یہی حال نماز اور دُعا کا ہے۔اسی طرح پر ایک کام کی شرط ہے جب وہ کامل طور پر ادا ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے۔اگر کسی کو پیاس لگی ہو اور پانی اس کے پاس بہت سا موجود ہے مگر وہ پے نہ تو فائدہ نہیں اُٹھا سکتا یا اگر اس میں سے ایک دو قطرہ پئے تو کیا ہوگا؟ پوری مقدار پینے سے ہی فائدہ ہوگا۔غرضکہ ہر ایک کام کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایک حد مقرر کی ہے جب وہ اس حد پر پہنچتا ہے تو بابرکت ہوتا ہے اور جو