نماز عبادت کا مغز ہے — Page 156
دل نہیں ہوتا 156 فرمایا: جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔دیکھو یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنی سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خواہ نخواہ اس کی طرف کھنچا جاتا ہے۔اسی طرح پر جب انسان اللہ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اسکے حسن و احسان کو پسند کرتا ہے تو دل بے اختیار ہو کر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہوجاتا ہے اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے۔اس زندگی کا مزا اسی دن آ سکتا ہے جبکہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے، تمام لذت اور ذوق دُعا ہی میں محسوس ہو۔یاد رکھو کوئی آدمی کسی موت و حیات کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو۔جو لوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا بھی مرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے نامراد جاتے ہیں۔وہاں ان کے لیے خزانہ نہیں ہے جس سے وہ لذت اور خوشی حاصل کر سکیں۔( ملفوظات جلد دوم، ص614)