نماز عبادت کا مغز ہے — Page 112
112 کر خوفناک حالت میں آستانہ اُلوہیت پر گر پڑے جہاں تک طاقت ہے وہاں تک رقت کے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور تضرع سے دُعا مانگے کہ شوخی اور گناہ جو اندر نفس میں ہیں وہ دُور ہوں۔اسی قسم کی نماز بابرکت ہوتی ہے اور اگر وہ اس پر استقامت اختیار کرے گا تو دیکھے گا کہ رات کو یا دن کو ایک نور اس کے قلب پر گرا ہے اور نفس امارہ کی شوخی کم ہوگئی ہے جیسے اثر دیا میں ایک سم قاتل ہے۔اسی طرح نفس امارہ میں بھی سم قاتل ہوتا ہے اور جس نے اُسے پیدا کیا اُسی کے پاس اس کا علاج ہے۔۔البدر جلد 3 نمبر 34 مورخہ 8 ستمبر 1904 ، ص3) بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز روزہ کی وجہ سے برکات حاصل نہیں ہوتے وہ غلط کہتے ہیں۔نماز، روزہ کے برکات اور ثمرات ملتے ہیں۔اور اسی دنیا میں ملتے ہیں لیکن نماز، روزہ اور دوسری عبادات کو اس مقام اور جگہ تک پہنچا نا چاہیے جہاں وہ برکات دیتے ہیں۔صحابہ کا سا رنگ پیدا کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور نجی اتباع کرو۔پھر معلوم ہوگا کہ کیا کیا برکات ملتے ہیں۔(الحکم جلد 10 نمبر 24 مورخہ 10 جولائی 1906، ص3) ( تفسير سورة البقرة ، ص 55)