نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 75 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 75

75 نقصان اُٹھاتے ہیں۔اصل میں یہ استخارہ ان بد رسومات کی عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتداء سے پہلے کیا کرتے تھے۔لیکن اب مسلمان اسے بھول گئے۔حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے۔جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔(البدر ۱۳، جون ۱۹۰۷ ء ) نماز کسوف و خسوف سورج گرہن کو کسوف اور چاند گرہن کو خسوف کہا جاتا ہے۔اجرام فلکی کی بیضوی شکل میں حرکت سے جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے وہ انسان کو خدا تعالیٰ کے قادر اور خالق کل ہونے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔اور اس طرح انسان سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی وہ دنیاوی روشنی اور روحانی نور حاصل کر سکتا ہے اور اللہ ہی کی ذات انسان کو اجرام فلکی کی تمام قسم کی شعاعوں کے بداثرات سے بچاتی ہے اور اچھے اثرات سے متمتع کرتی ہے۔سواس بات کے شکرانے اور روحانی ترقی حاصل کرنے کی غرض سے ایسے موقعہ پر دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے جسے نماز کسوف اور خسوف کہا جاتا ہے۔طریق نماز کسوف و خسوف گاؤں اشہر کے سب لوگ مسجد میں یا کھلے میدان میں جمع ہو کر یہ نمازیں پڑھیں۔اور بہتر ہوگا کہ یہ نماز با جماعت پڑھی جائے۔باجماعت نماز کی صورت میں قرآت بالجہر اور لمبی ہونی چاہیئے۔حسب حالات ہر رکعت میں کم از کم دور کوع کیے جائیں۔یعنی قرآت کے بعد رکوع کیا جائے اور پھر قرآن کا کچھ حصہ پڑھا جائے۔اس کے بعد دوسرا رکوع کیا جائے اور پھر سجدہ ہو۔اس نماز کے رکوع اور سجدے بھی لمبے ہونے چاہئیں نماز