نبوت سے ہجرت تک — Page 66
کی حمایت کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔انہوں نے ایک اور رشتہ دار أسيد بن الحضیر کو حضرت مصعب بن عمیر کے پاس بھیجا تا کہ انہیں منع کریں۔اسید نے بڑے غصے سے بات شروع کی۔اسعد نے آہستگی سے مصعب بنے سے کہا یہ اپنے قبیلے کے ایک با اثر ٹیمیں ہیں۔ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا چنانچہ حضرت مصعب نے بڑی محبت اور عزت سے بیٹھا کہ قرآن کریم سنایا۔امید تو وہیں مسلمان ہو گئے۔اور جا کر سعد بن معاذ کو بھیجا یہ بھی بڑے سردار تھے اور خیال تھا کہ اکہ سعد اسلام قبول کر لیں گے تو پورا قبیلہ مسلمان ہو جائے گا۔سعد بہت زیادہ غصے میں آئے اور تیزی سے بولنا شروع کیا۔حضرت مصعب نے بڑی محبت پیار سے بٹھایا قرآن پاک سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔سعد تو فورا غسل کر کے کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔پھر اسیڈ اور سعد دونوں اپنے قبیلے کے پاس آئے سعد نے پوچھا۔اسے بنی عبد الاشہل تم مجھے کیسا جانتے ہو۔سب نے کہا آپ ہمارے سردار ہیں اور سردار کے بیٹے ہیں ہمیں آپ کی بات پر کامل اعتماد ہے۔پھر آپ نے اسلام کا پیغام دیا جو سب نے قبول کر لیا۔سب بت توڑ دیئے گئے۔بچہ۔جب آپ مشرب کے حالات بتاتی ہیں مجھے خوشی ہوتی ہے مگر دل الگا ہوتا ہے آپ میں اور مکہ کے حالات ہیں۔ماں۔مگر میں وہی بدنصیبی تھی۔مند الکبیر، حسد، دشمنی سب نے مل کر مسلمانوں کے حالات بڑے درد ناک بنا دیے تھے۔ایک سے بڑھہ کہ ایک ظلم اُن کو سوجھتا