نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 60 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 60

کو سچا ثابت کرنے کے لئے نشان پر نشان دکھا رہا تھا۔اس زمانے ہیں دو بڑی طاقتور حکومتیں تھیں۔ایک سلطنت فارسی (ایران) اور دوسری سلطنت روم۔دونوں میں جنگ ہو رہی تھی۔فارسی حکومت مسلسل فتح حاصل کرتی ہوئی روم کے علاقے فتح کر رہی تھی۔اپنے پیارے کو الہ پاک نے بتایا کہ چند سالوں کے بعد روم فارس پر غلبہ پالے گا اور مومن خوش ہوں گے۔(سورہ روم) مکہ والوں نے اس خبر پر شرطیں لگالیں کہ اب دیکھتے ہیں یہ بات پوری ہوتی ہے یا نہیں۔خدا کی بات تو پوری ہوتی تھی۔پوری ہوئی اور کفار کو منہ کی کھانی پڑی۔بچہ۔ابو جہل اور ابو لہب تو خدائی نشانوں کے سامنے بے بس ہو گئے ہوں گے۔ماں۔اُن کا حال تو پوچھو ہی نہ۔وہ تو جیسے دیوانے ہو گئے تھے۔اللہ تعالیٰ نشان پر نشان دکھا رہا تھا۔اور ساتھ میں بشارتیں عطا کہ رہا تھا کہ فتح مسلمانوں کی ہی ہوگی۔اپنے خاص فضلوں اور رحمتوں کے ساتھ اپنے رستے ہیں دکھ اُٹھانے والوں کو کا میابیاں عطا فرار ہا تھا۔آہستہ آہستہ ایک خدا کو ماننے والوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔اہل مکہ نے توجہ نہ دی۔طائف والوں نے کان نہ دھرا تو آپ نے دوسرے قبائل کو دعوت اسلام دینی شروع کی۔حج کے موقعہ پر آنے والے حاجیوں سے مکہ اور منی میں ملاقاتیں کرتے اور عکاظ، مجنہ اور ذو المجاز میں بڑے بڑے میلوں کے وقت آپ تشریف لے جاتے۔لوگوں کے ہجوم میں داخل ہو جاتے اور ایک خدا کی طرف بلاتے۔اسی طرح قبائل کے سرداروں کو اُن کے محفل لگانے کی