نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 2

نبیوں کا سردار اس مضمون کو ہی ترک کردوں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آسمانی کتب کو صحیح معنوں میں لوگوں کے دماغوں میں راسخ کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ اعلیٰ نمونہ بھی ہو اور سب سے اعلیٰ نمونہ وہی ہو سکتا ہے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہو۔یہ نقطہ باریک اور فلسفیانہ ہے اور بہت سے مذاہب نے تو اس کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔چنانچہ ہندو مذہب ویدوں کو پیش کرتا ہے مگر ویدوں کے لانے والے رشیوں اور منیوں کی تاریخ کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ہندو مذہب کے علماء اس کی ضرورت کو آج تک بھی نہیں سمجھ سکے۔اسی طرح عیسائی اور یہودی علماء اور پادری بڑی بیا کی سے کہہ دیتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے فلاں نبی میں فلاں نقص تھا اور فلاں نبی میں فلاں نقص تھا۔وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کے لئے چنا جب وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا تو کسی دوسرے کی اصلاح کیا کرے گا اور اگر وہ شخص ایسا ہی نا قابل اصلاح تھا تو خدا تعالیٰ نے اُسے چنا کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ کسی اور کو نہیں چن لیا؟ آخر خدا تعالیٰ کے لئے کیا مجبوری تھی کہ وہ زبور کے لئے داؤد کو چنتا۔وہ بنی اسرائیل میں سے کسی اور انسان کا انتخاب کر سکتا تھا۔پس یہ دونوں باتیں غیر معقول ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے جس پر کلام نازل کیا وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا یا یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو چن لیا جو نا قابل اصلاح تھا یہ دونوں باتیں عقل کے بالکل خلاف ہیں۔مگر بہر حال مختلف مذاہب میں اپنے منبع سے دوری کی وجہ سے اس قسم کے غلط خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔یا یوں کہو کہ انسانی دماغ کی ترقی کے کامل نہ ہونے کے سبب سے پرانے زمانہ میں اِن چیزوں کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔مگر اسلام میں شروع سے ہی اس امر کی اہمیت سمجھی گئی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں آپ سے بیاہی گئیں اور کوئی سات سال کا عرصہ آپ کی صحبت میں رہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ