نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 302

نبیوں کا سردار ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں سے حسن سلوک دنیا میں اکثر لوگ جب بالغ ہو جاتے ہیں اور بیوی بچوں کے فکر انہیں لگ جاتے ہیں تو ماں باپ سے حسنِ سلوک میں کمزوری دکھانے لگ جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺ اس نقص کو دور کرنے کیلئے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کو بار بار واضح فرماتے رہتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہا یا رسُول اللہ! میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپ نے فرمایا۔تیری ماں۔اس نے کہا پھر؟ آپ نے فرمایا۔پھر بھی تیری ماں۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا۔اس کے بعد بھی تیری ماں۔اُس نے چوتھی دفعہ کہا يَا رَسُولَ اللہ ! اس کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا۔پھر تیرا باپ۔پھر جو اس کے بعد رشتہ دار ہوں پھر جوان کے بعد رشتہ دار ہوں؟ لے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بزرگ تو آپ کے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے، بیویوں کے بزرگ موجود تھے اور آپ ہمیشہ اُن کا ادب کرتے تھے۔جب فتح مکہ کے موقع پر آپ ایک فاتح جرنیل کے طور پر مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر اپنے باپ کو آپ کی ملاقات کے لئے لائے۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے کہا۔آپ نے ان کو کیوں تکلیف دی میں خود ان کے پاس حاضر ہوتا۔آپ ہمیشہ اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کہ جوشخص اپنے بوڑھے ماں باپ کا زمانہ پائے اور پھر بھی جنت کا مستحق نہ ہو سکے، تو وہ بڑا ہی بد بخت ہے۔سے مطلب یہ کہ بخاری کتاب الادب باب من أحق الناس بحسن الصحبة سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۴۸ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ے مسلم کتاب البر والصلة باب رغم من ادرك ابويه (الخ)