نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 230

۲۳۰ نبیوں کا سردار رہے تھے کہ آج سے صرف دس پندرہ دن پہلے یہ شخص میرے قتل کے لئے اپنی فوج کو لے کر مکہ سے نکلنے والا تھا لیکن چند ہی دنوں میں خدا تعالیٰ نے اس کے اندر ایسی تبدیلی کر دی ہے کہ یہ مکہ کا کمانڈر ایک عام سپاہی کی حیثیت میں میری خچر کی رکاب پکڑے کھڑا ہے اور اس کا چہرہ بتا رہا ہے کہ یہ آج اپنی موت سے اپنے گناہوں کا ازالہ کرے گا ) عباس نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیرت سے ابوسفیان کی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو کہا یا رَسُوْلَ اللہ ! یہ ابوسفیان آپ کے چا کا بیٹا اور آپ کا بھائی ہے آج تو آپ اس سے خوش ہو جائیں۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اِس کی وہ تمام دشمنیاں معاف کرے جو کہ اس نے مجھ سے کی ہیں۔ابوسفیان کہتے ہیں کہ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا اے بھائی! تب میں نے جوش محبت سے آپ کے اُس پیر کو جو نچر کی رکاب میں تھا چوم لیا۔فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے وہ جنگی سامان جو آپ نے عاربینہ لیا تھا اس کے مالکوں کو واپس کیا اور ساتھ اُس کے بہت سا انعام واکرام بھی دیا تو ان لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شخص اس زمانہ کے عام انسانوں جیسا نہیں۔چنانچہ صفوان اُسی وقت اسلام لے آئے۔اس جنگ کا ایک اور عجیب واقعہ بھی تاریخوں میں آتا ہے۔شیبہ نامی ایک شخص جو مکہ کے رہنے والے تھے اور جو خانہ کعبہ کی خدمت کے لئے مقرر تھے وہ کہتے ہیں میں بھی اس لڑائی میں شامل ہوا مگر میری نیت یہ تھی کہ جس وقت لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقع پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوں گا اور میں نے دل میں کہا عرب اور غیر عرب لوگ تو الگ رہے اگر ساری دنیا بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب میں داخل ہوگئی تو میں نہیں ہوں گا۔جب لڑائی تیزی پر ہوئی اور ادھر کے آدمی اُدھر کے آدمیوں میں مل گئے تو میں نے تلوار کھینچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع کیا۔اُس وقت مجھے یوں