نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 206

۲۰۶ نبیوں کا سردار کریں۔جب یہ قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا تمہارا دکھ میرا دکھ ہے میں اپنے معاہدہ پر قائم ہوں۔یہ بادل جو سامنے برس رہا ہے (اُس وقت بارش ہو رہی تھی جس طرح اس میں سے بارش ہو رہی ہے اسی طرح جلدی ہی تمہاری مدد کے لئے اسلامی فوجیں پہنچ جائیں گی۔جب مکہ والوں کو اس وفد کا علم ہوا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا ، تاکہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہ تھا اس لئے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہوجاتا تھا۔ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اے لوگو! میں مکہ والوں کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لئے امن کا اعلان کرتا ہوں۔لے یہ بات سن کر مسلمان اُس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوسفیان ! یہ بات تم یکطرفہ کہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں چاروں طرف مسلمان قبائل کی طرف پیغامبر بجھوا دیئے اور جب یہ اطلاعیں آچکیں کہ مسلمان قبائل تیار ہو چکے ہیں اور مکہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے راستہ میں ملتے جائیں گے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو مسلح ہونے کا حکم دیا۔جنوری ۱۳۰ ء کی پہلی تاریخ کو یہ لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور راستہ میں چاروں طرف مسلمان قبائل آ آ کر لشکر میں شامل ہوتے گئے۔چند ہی منزلیں طے کرنے کے بعد جب یہ شکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اس کی تعداد سلیمان نبی کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ادھر توبہ شکر مکہ کی طرف مارچ کرتا چلا جارہا تھا اور ادھر مکہ سیرت ابن هشام جلد ۴ صفحه ۳۹ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء