نبیوں کا سردار ﷺ — Page 179
۱۷۹ نبیوں کا سردار ہوگا۔(آخر میں قرآن شریف کی آیت درج تھی جس کے معنی یہ ہیں کہ ) اے اہل کتاب! آؤ اس بات پر تو اکٹھے ہو جائیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اُس کا شریک نہ بنائیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی بندے کو بھی اتنی عزت نہ دیں کہ وہ خدائی صفات سے متصف کیا جانے لگے۔اگر اہل کتاب اس دعوت اتحاد کو قبول نہ کریں تو اے محمد رسول اللہ اور ان کے ساتھیو! ان سے کہہ دو کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔بعض تاریخوں میں لکھا ہے کہ جب یہ خط بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو در بایوں میں سے بعض نے کہا کہ اس خط کو پھاڑ کر پھینک دینا چاہئے کیونکہ اس میں بادشاہ کی ہتک کی گئی ہے اور خط کے اوپر بادشاہ روم نہیں لکھا گیا بلکہ صاحب الروم یعنی روم کا والی لکھا ہے مگر بادشاہ نے کہا یہ عقل کے خلاف ہے کہ خط پڑھنے سے پہلے پھاڑ دیا جائے اور یہ جو اُس نے ، مجھے روم کا والی لکھا ہے یہ درست ہے آخر مالک تو خدا ہی ہے میں والی ہی ہوں۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا روم کے بادشاہ نے جو طریق اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی حکومت بچالی جائے گی اور اس کی اولاد دیر تک حکومت کرتی رہے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔بعد کی جنگوں میں گو بہت سا ملک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دوسری پیشگوئی کے ماتحت روم کے بادشاہ کے ہاتھ سے چھینا گیا مگر اس واقعہ کے چھ سو سال بعد تک اس کے خاندان کی حکومت قسطنطنیہ میں قائم رہی۔روم کی حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بہت دیر تک محفوظ رہا۔چنانچہ بادشاہ منصور قلادون کے بعض سفیر ایک دفعہ بادشاہ روم کے پاس گئے تو بادشاہ نے ان کو دکھانے کے لئے ایک صندوقچہ منگوایا اور کہا کہ میرے ایک دادا کے نام تمہارے رسول کا ایک خط آیا تھا