نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 95

نبیوں کا سردار صحابہ کی لاشوں پر جا پڑے جو آپ کے اردگر داڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھےلے اس کے بعد کچھ اور صحابہ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔کفار نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر سمجھا کہ آپ مارے جاچکے ہیں۔چنانچہ مکہ کا لشکر اپنی صفوں کو درست کرنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا۔جو صحابہ آپ کے گرد کھڑے تھے اور جن کو کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے گیا تھا اُن میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔جب آپ نے دیکھا کہ میدان سب لڑنے والوں سے صاف ہو چکا ہے تو آپ کو یقین ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں ایک ہی وقت میں قیصر اور کسری کا مقابلہ بڑی دلیری سے کیا اور اُس کا دل کبھی نہ گھبرا یا اور کبھی نہ ڈراوہ ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔اتنے میں مالک نامی ایک صحابی جو اسلامی لشکر کی فتح کے وقت پیچھے ہٹ گئے تھے کیونکہ انہیں فاقہ تھا اور رات سے انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا جب فتح ہو گئی تو وہ چند کھجوریں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تا کہ انہیں کھا کر اپنی بھوک کا علاج کریں۔وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے حضرت عمرؓ تک جا پہنچے اور عمر کو روتے ہوئے دیکھ کر نہایت ہی حیران ہوئے اور حیرت سے پوچھا۔عمر! آپ کو کیا ہوا؟ اسلام کی فتح پر آپ کو خوش ہونا چاہئے یا رونا چاہئے؟ عمر نے جواب میں کہا مالک ! شاید تم فتح کے معا بعد پیچھے ہٹ آئے تھے تمہیں معلوم نہیں کہ لشکر کفار پہاڑی کے دامن سے چکر کاٹ کر اسلامی لشکر پر حملہ آوار ہوا اور چونکہ مسلمان پراگندہ ہو چکے تھے اُن کا مقابلہ کوئی نہ کر سکا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ سمیت اُن کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مقابلہ کرتے کرتے شہید ہو گئے۔مالک نے کہا عمر !! اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو آپ یہاں بیٹھے کیوں رور ہے ہیں؟ جس دنیا میں ہمارا سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۸۴ - مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ