مواہب الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 177

مواہب الرحمٰن — Page 109

مواهب الرحمن 1+9 اردو تر جمه "الأمراض تشاع والنفوس مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ بیماریاں پھیلیں تضاع"، فأنزل النكال وفعل كما گی اور جانیں ضائع ہونگی۔چنانچہ اس نے قال۔ووالله إني قد أُنبئتُ به قبل عبرتناک عذاب نازل فرمایا اور جیسا کہا تھا نازل هذه المائة الهجرية ، ثم تواتر کر دکھایا۔بخدا اس ہجری صدی کے آغاز سے الأخبار حتى ظهر الطاعون فی پہلے ہی مجھے اس کی نسبت بتادیا گیا تھا۔بعد ازیں هذه الناحية ولما بلغني هذا تواتر سے یہ خبریں آئیں یہاں تک کہ اس خطہ الخبر ووصلني منه الأثر، أجلتُ میں طاعون ظاہر ہوگئی۔اور جب مجھے یہ خبر ملی اور یہ فيه بصرى، و کرّرت فيه نظری اطلاع مجھ تک پہنچی تو میں نے نگاہ دوڑائی اور اس پر فإذا هي الآية الموعودة، والعِدَة گہری نظر ڈالی ، تو معلوم ہوا کہ یہ تو موعودہ نشان المعهودة۔ثم إن الطاعون قلل اور معہود وعدہ ہے۔علاوہ ازیں اس طاعون نے المعادين، وكثر حزبنا دشمنوں کی تعداد میں کمی کی اور ہمارے ناتواں گروہ المستضعفين، حتى إنهم صاروا کو اتنی کثرت بخشی کہ ان کی تعداد ایک لاکھ کے لگ زهاء مائة ألف أو يزيدون۔وأما بھگ یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔اور آج کل تو في هذه الأيام فعِدتُهم قريب من ان کی تعداد پہلے سے دو چند کے قریب ہو چکی ضعفها، وإن في هذه لآية لقوم ہے۔اور اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے يتدبرون۔والذين اعتنقوا بہت بڑا نشان ہے۔اور وہ لوگ جو حسد اور کینہ کو الحسد والشحناء ، فهم يؤثرون الظلام ولا يؤثرون الضياء ، وقد اپنے گلے سے لگائے بیٹھے ہیں، وہ تاریکی کو مقدم انتقشت الضغائن والأحقاد على رکھتے ہیں اور روشنی کو ترجیح نہیں دیتے۔ان کی طبائع پر ابتدا ہی سے کینہ و بغض نے اپنا نقش جما قرائحهم من الابتداء ، وهي شيء توارثه الأبناء من الآباء وتری رکھا ہے۔اور یہ وہ چیز ہے جو بیٹوں کو اپنے آباؤ فيهم موادًا سُميّة من البخل اجداد سے ورثہ میں ملی ہے۔اور تو ان میں بخل بتگبر والعُجب والرياء ، ما سمعنا اور ریا کا ایسا زہریلا مادہ پاتا ہے جس کی نظیر