مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 300
300 ایڈورڈ روڈ لاہور کی طرف سے دیا گیا اور اسکی طباعت رضا کارانہ طور پر نیازی پر نٹنگ پر لیں 12 ہسپتال روڈ لاہور نے کی۔نعمت اللہ ولی کے نام پر جعلی اشعار بھٹو صاحب کے رسوائے عالم فیصلہ 7 ستمبر پر ہدیہ تبریک پیش کرنے کی ایک صورت یہ کی گئی کہ حضرت نعمت اللہ ولی کے نام پر شائع شدہ ایک قصیدہ میں مندرجہ ذیل جعلی اشعار کا اضافہ کر کے پورے ملک میں بذریعہ اشتہار ان کا خوب پر اپیگنڈہ کیا تا انہیں ایک موعود اور مذہبی شخصیت کی حیثیت دی جاسکے چنانچہ لکھا: - ”حضرت شاہ نعمت اللہ ولی نے اپنی منظوم پیشگوئیوں میں واضح طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے بر سر اقتدار آنے کا بھی واضح اشارہ کر دیا تھا۔انہوں نے پیشنگوئی کی تھی۔با نام ذال مردے حق گوونیک نامے گیرد عناں شود زوکارے مجاہدانہ یعنی ذال سے شروع ہونے والے نام کا ایک شخص جو حق گو اور شہرت یافتہ ہو گا عنان حکومت ہاتھ میں لے گا اور اس کے ہاتھ سے کوئی مجاہد انہ کام انجام پائے گا۔اس پیشگوئی سے پہلے دو شعر اور بھی ہیں: الزام کفر باشد برنیک خُو مسلماں از زاهدان به به خامه اقدام کافرانہ یعنی نیک خُو مسلمانوں پر زاہدوں کے قلم سے کفر کا الزام لگانے کا کافرانہ کام واقدام کیا جائے گا۔مثل یہوداں فرقه در قلب کبر و نخوت طامع نمود دنیا انداز عالمانہ یعنی یہودیوں کی طرح ایک فرقہ ہو گا جس کے دلوں میں کبر و نخوت بھری ہو گی۔یہ فرقہ شہرت اور دنیاوی جاہ کا لالچی ہو گا۔بظاہر اس کا اند از عالمانہ ہو گا۔عرب صحافت اور بھٹو کے مامور من اللہ ہونے کا پراپیگنڈہ جہاں تک عرب صحافت کا تعلق ہے۔1973ء کے آئین کے منظر عام پر آتے ہی اس نے بھٹو کی شان میں قصیدہ خوانی شروع کر دی اور یہانتک غلو کیا کہ انہیں خدا کی طرف سے مبعوث قائد