مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 274 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 274

274 ہندوستانی مسلمان، ہندوستان میں اپنی حیثیت قائم نہیں رکھ سکتے اور اس پر راضی ہیں کہ ایک کونے میں ، جو ان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہو ، سمٹ کر بیٹھ جائیں۔“ ” یہودیوں کی اس آرزو سے ہمدردی کی جاسکتی ہے کہ ان کا ایک قومی وطن ہو، کیونکہ وہ پوری دنیا میں منتشر ہیں اور کسی ایک علاقے میں بھی وہ حکومت کے انتظامات پر اثر نہیں ڈال سکتے۔ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اس سے بالکل مختلف ہے۔ان کی تعداد نو کروڑ سے اوپر ہے اور کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے وہ ہندوستانی زندگی کا اتنا اہم عنصر ہیں کہ حکومت کے انتظامات اور پالیسی پر فیصلہ کن حد تک اثر ڈال سکتے ہیں۔اس کے علاوہ قدرت نے ان کو چند مخصوص علاقوں میں بڑی تعداد میں یکجا بھی کر دیا ہے اور اس طرح انہیں تقویت پہنچائی ہے۔“6 آزاد صاحب کی لفظ ”پاکستان“ سے عداوت در اصل اس شدید دشمنی کا فطری نتیجہ تھا جو غدر پارٹی میں شمولیت کے زمانہ ہی سے ان کے سینہ میں مسلمانان ہند خصوصاً بنگالی مسلمانوں کے خلاف سلگ رہی تھی۔جو آخری عمر میں شعلہ جوالہ بن چکی تھی۔جس کا دستاویزی ثبوت ان کی آخری کتاب ”انڈیا ونز فریڈم“ (India Wins Freedom) ہے جس میں انہوں نے صاف طور پر ان خیالات کا اظہار کیا کہ 1906ء سے مسلمانان ہند خصوصاً بنگالی مسلمان انگریزوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان کے اشاروں پر رقص کر رہے ہیں۔7 6" یہی نہیں آزاد صاحب بابی و بہائی نظریات کے پیکر تھے اس لئے نہ صرف کروڑوں مسلمان ان کے معتوب تھے بلکہ وہ اسلام کی روحانی قوت ہی سے منکر تھے۔چنانچہ انہوں نے ”انڈیا ونز فریڈم “ میں لکھا:۔"History has however proved that after the first few decades, or at most after the first century, Islam was not able to unite all the Muslim countries into one State on the basis of Islam alone۔"8 حواشی: 1 اخبار انقلاب لاہور۔18 اکتوبر 1945ء صفحہ 8۔2 روز نامه جدید نظام استقلال نمبر 1950ء۔بحوالہ رپورٹ تحقیقاتی عدالت اردو فسادات پنجاب 1953ء صفحہ 274۔3 روزنامہ خبریں 30 جون 1996ء۔