مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 151
151 چودھویں فصل پنڈت نہرو کاسفر بلجیم و ماسکو اور سٹالین سے ملاقات بلجیم کے شہر برسلز (Brussels) کو سوشلسٹ تاریخ میں ایک مرکزی عظمت حاصل ہے اور وہ یہ کہ مارکس پیرس سے جلاوطن ہونے کے بعد یہیں پناہ گزیں ہوا۔یہیں اُس نے اپنے ساتھی وولف کو 1847ء میں لندن کی کمیونسٹ لیگ کی پہلی کانگرس کے لئے برسلز شاخ کی طرف سے نمائندہ کے طور پر بھیجا۔پھر برسلز میں اس کا دس روزہ اجلاس دسمبر 1847ء میں ہوا جس میں مارکس نے بھی شرکت کی اور یہیں مارکس اور اینجلز نے کمیونسٹ لیگ کا دستور مرتب کیا۔یہی وہ مشہور عالم کمیونسٹ مینی فیسٹو (Manifesto) ہے جس کے بعد اس کے بنیادی خطوط پر دنیا بھر کی سوشلسٹ اور اشتراکی پارٹیوں کے لائحہ عمل تیار کئے گئے۔مارکس کے برسلز میں قیام کی وجہ سے کمیونسٹ لیگ کا صدر دفتر لنڈن سے برسلز میں منتقل کر دیا گیا۔اسی دوران 1863ء میں سوشلسٹوں نے لنڈن میں انٹر نیشنل تنظیم قائم کی جس کا پہلا اجلاس برسلز ہی میں ہونا قرار پایا تھا لیکن حکومت نے اس پر پابندی لگادی۔چنانچہ اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور اس کی بجائے لنڈن میں جنرل کونسل کی ایک میٹنگ ہوئی۔انٹر نیشنل کا تیسرا اجلاس برسلز میں ستمبر 1868ء کو ہوا۔فرانس کے سوشلسٹ مزدوروں نے 18مارچ 1871ء کو پیرس میں کمیون نظام قائم کر دیا۔مگر یہ نظام گل دس ہفتہ چل سکا جسے حکومت فرانس نے اس کے چھ ہزار حامیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ختم کر دیا۔جس کے بعد ستمبر 1872ء میں مار کس کی تجویز پر انٹر نیشنل کا جنرل کونسل کامرکزی مقام لنڈن سے نیو یارک منتقل کر دیا گیا۔1 المختصر یہ کہ ہندو کانگرس کے سوشلسٹ لیڈر جواہر لال نہرو اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ مارچ 1926ء میں یورپ کے لئے روانہ ہوئے۔جہاں انہیں پتہ چلا کہ فروری 1927ء میں سوشلسٹوں کی عالمی کا نفرنس برسلز میں منعقد ہو رہی ہے۔انہوں نے کانگرس کو توجہ دلائی کہ یہ ایک زریں موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسے باضابطہ طور پر شرکت کرنا چاہیے۔وہ تحریر کرتے ہیں: ”میری تجویز پسند کی گئی اور میں اس کام کے لئے انڈین نیشنل کانگرس کا نمائندہ مقرر کر دیا گیا۔2 جناب سروی پلی گوپال (Sarvepalli Gopal) اپنی کتاب ”جواہر لعل نہرو“