مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 102 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 102

102 ساتویں فصل سودیشی تحریک، اقبال، جماعت احمدیہ جناب عتیق صدیقی (جامعہ نگر دہلی) کی تحقیق کے مطابق غدر پارٹی کے بانی لالہ ہر دیال کے اقبال سے دوستانہ تعلقات تھے۔وہ یورپ میں دوسرے ہندوستانی انقلابیوں کے ساتھ برطانوی اقتدار کی مخالفت میں سرگرم رہے۔1913ء میں امریکہ میں غدر پارٹی کی داغ بیل ڈالی۔اقبال ستمبر 1905ء سے جولائی 1908ء تک یورپ میں رہے۔وہ مذہبی مسائل کے لئے ابو الکلام آزاد اور سید سلیمان ندوی سے رابطہ کرتے تھے۔اقبال کے سفر انگلستان کے دوماہ بعد بنگال کی تقسیم کا فیصلہ ہوا اور ہندوؤں نے سودیشی تحریک کے نام سے شورش برپا کر دی تو انہوں نے کیمبرج میں اس کی تائید میں ایک پُر جوش مضمون لکھا جو رسالہ ” زمانہ کانپور (مئی 1906ء) میں چھپا۔1 سودیشی تحریک کے متعلق اقبال کی یہ رائے تھی کہ ”میری رائے میں اس تحریک کی کامیابی سے مسلمانوں کو ہر طرح فائدہ ہے۔۔۔۔مسلمان خواہ بیچنے والے ہوں خواہ خریدنے والے ہر طرح فائدہ میں ہیں۔ہاں اگر وہ بیچنے والے ہیں تو ان کو زیادہ فائدہ ہے اور یہ کون کہتا ہے کہ وہ بائع نہ بنیں۔2 لینن اور سودیشی تحریک لینن نے سودیشی ہندو تحریک کو انڈین اور کنگ کلاس کی پہلی سیاسی تحریک کا نام دے کر خراج تحسین ادا کیا چنانچہ بھارت کے ایک مستند تاریخ دان جناب کے۔آر۔بمبوال ایم اے3۔K۔R) (Bombwall, M۔A تحریر فرماتے ہیں: "Militant Nationalism and the Congress Militant nationalism arose as an integral part of the Congress movement but the extremists constituted a minority in the organisation۔Nevertheless, they succeeded in of the national movement۔They brought scope widening the the middle classes into the mainstream of the national struggle and helped in the spread of national consciousness