پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 34
پُرکیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار جب جماعت میں بھی ہو اختلاف میرے بچو مجھ سے سُن لو صاف صاف سبھی آل احمد سے وہ مل جائیں اس سے گمراہی نہ پائیں گے کبھی ہے یہی میری وصیت آخری ہے عمل کرنا اسی پر بہتری یاد رکھنا تفرقہ جب ہو عیاں ہے خلافت ہی ہدایت کا نشاں آل احمد اور خلافت ہو جدھر سب میری اولاد ہو جائے اُدھر ہے ہدایت کا یہی معیار ایک میرے پیارے اس سے ہونگے پاک و نیک ہوتا ہوں رخصت پیارو آپ سے یاد رکھنا بات اپنے باپ سے 34 حیات قدسی حصہ سوم اشاعت جنوری ۱۹۵۱ء صفحه ۷۹)