مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page vi
میں یہاں امپیرئیل کالج کے پروفیسر ٹام کبل کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو ڈاکٹر صاحب کے پچاس سال تک رفیق کار اور معتمد ر ہے۔مجھے انہوں نے چند ایک مضامین ارسال فرمائے جو مضامین انہوں نے ڈاکٹر صاحب کی وفات پر لکھے تھے ان میں سے ہیوگرافیکل میموائرز آف رائیل سوسائٹی والا مضمون میرے نزدیک اعلیٰ ترین مقالہ ہے۔جنوری ۲۰۰۲ء میں کولمبیا کے ملک کے ایک نوجوان پروفیسر alexis de groin کولندن یو نیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔ڈاکٹریٹ کا مقالہ انہوں نے ڈاکٹر سلام کی زندگی اور آئی سی ٹی پی کی تاریخ اور اہمیت کے بارہ میں لکھا تھا، افسوس کہ میں اس مقالہ پر تبصرہ اس کتاب میں شامل نہیں کر سکا۔یوں تو اس کتاب میں شامل ہر مضمون نہایت دلچسپ اور توجہ کا طالب ہے لیکن میرے نزدیک حکایات سلام اس کتاب کا دل ہے۔مجھے قوی امید ہے کہ قارئین اسے پڑھ کر محفوظ ہوں گے۔شاید کچھ لوگ کتاب کے عنوان پر حیرت سے بھنوئیں چڑھا ئیں لیکن میرے نزدیک جسطرح سر آئزک نیوٹن کی آمد سے یوروپ میں سائینسی اور تکنیکی انقلاب کی بنیاد رکھی گئی اور اس کی شخصیت یوروپ میں ترقی کا نقطہ آغاز بنی میرے نزدیک یہی چیز ڈاکٹر سلام کی ذات سے ہوگی بلکہ اسلامی ممالک میں سائینس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم اور آگاہی سے ایک نئے انقلاب کی بنیاد پڑ چکی ہے۔انشاء اللہ ڈاکٹر عبدالسلام نے جو ایک صد سے زیادہ خطبات پیش کئے کاش کوئی صاحب علم دوست اپنے ذمہ اس کام کو لے اور ان خطبات سلام کو شائع کرنیکا اہتمام کرے۔یہ فکر انگیز خطبات آئی سی ٹی پی کی انمول لائیبریری میں موجود ہیں۔میں ان تمام احباب کرام کا صمیم قلب سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں میری رہ نمائی کی۔اگر میں یہاں برادرم ہدایت اللہ ہادی کا ذکر نہ کروں تو نا شکر گزاری ہوگی۔انہوں نے جن مفید مشوروں سے مجھے نواز اوہ بہت ہی سودمند اور تجربہ پر مبنی تھے۔اسی طرح مکرم لال خاں صاحب کے قیمتی مشوروں کا بھی احسان مند ہوں۔فجزاء الله احسن الجزاء ۱۲۔اپریل ۲۰۰۳ء محمد زكريا ورك ، ٹنگسٹن کینیڈا