مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 353 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 353

i سلیم شاہجہانپوری (کراچی) ۲۸ دسمبر ۱۹۹۶ء معترف جس کا اک زمانہ تھا کہ ہو گئے ڈاکٹر سلام بھی فوت موتِ عالم ہے اک جہان کی موت جب بلایا رفیق اعلیٰ نے پھر نہ کی دیر مرد دانا نے ماہر علم طبیعات تھا وہ کاشف راز کا کینات تھا وہ جب مرض نے کیا اسے مہجور چلنے پھرنے سے ہو گیا معذور کام کرتا رہا دماغ اس کا جگ میں روشن رہا چراغ اس کا سائینس دانوں کو ناز تھا اس پر اس عاشق تھے اسود و احمر طاقتیں چار تھیں مدار حیات اور انہیں پر تھا انحصار حیات اس نے ثابت کیا کہ تین ہیں وہ اثر انداز ہیں زمیں جو تین کو دو وہ کرنے والا تھا رو کو پھر ایک ہی بنا دیتا اس کا بہت اعلیٰ تھا کرامت بھی وہ دکھا دیتا رو کر جب ایک کر دکھاتا وہ راه وحدانیت لاتا وہ پھر وہ کہتا کہ ایک ہی طاقت حکمراں ہے یہاں ہے بلا شرکت ہے وہی کا سکنات کا محور نام ہے اس کا خا لق اکبر ایک ہی طاقت عظیم ہے وہ حی و قیوم ہے قدیم ہے وہ اس نے ایسا عظیم کام کیا جگ میں اونچا وطن کا نام کیا بلیقیں یہ وہ کارنامہ ہے معترف کا جس کا اک زمانہ ہے ایسا انسان بھی کوئی آئے گا تین کو ایک کر دکھائے گا (۳۵۳)