مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 343
(۳۴۳) سید جعفر طاہر ۱۹۷۳ پیر میکدہ اہل علم میری زباں پہ ذکر ہے عبد السلام کا خوش آج دیکھتا ہوں میں دل خاص و عام کا آنے لگے ہیں ماہ و سما سے مجھے سلام میں نے لیا ہے نام جو تجھ نیک نام کا تو سرزمین جھنگ کا فرزند نامور اہل وطن کا ناز شرف روم و شام کا استاد بھی ہے دوست بھی قدرداں بھی پیکر حیا کا پتلا ہے تو خلق عام کا خوش فکر خوش مزاج جوان و شگفته دل دریائے بے کنار ہے لطف مدام کا حیران مصل ہے تیرے لطف و کمال پر اندازہ کرسکوں نہ میں تیرے مقام کا اے تو کہ پیر میکدہ اہل علم ہے اے تو کہ صدر بزم ہے اہل کلام کا فکر ارسطو فہم فلاطوں تیرے نار نشہ تیرے سخن میں ہے کوثر کے جام کا لازم ہے اب نہ کوئی نیوٹن کا نام لے تھا رکن گرچہ وہ بھی گروہ کرام کا تو رشک فیثا غورث و آئن سٹائین ہے تو فخر ابن سینائے عالی مقام کا تو نورچشم جابر ابن حیان ہے رازی کا راز آئینہ فکر خیام کا واقف ہے تو بروج و عروج نجوم ہے تو رازداں ہے شمس و قمر کے نظام کا زہرہ کو پیشوائی کا ہر لحظہ شوق ہے مریخ میں تو چرچا ہے تیرے پیام کا پھیلی پے تیرے علم کی یہ روشنی کہ آج دل کانپنے لگا فلک نیلی نام کا کیا روشنی فرنگ کی تجھ پر اثر کرے تو آفتاب تازہ ہے بیت الحرام کا نوبل پرائز لے کے ہو تو فائز المرام و زیبا ہے اب حوصلہ جو ملے تجھ کو کام کا تو میرا ہم وطن ہے شرف یہی ہے مجھے ورنہ میں دین کا ہوں نہ دنیا کے کام کا آباد و شاد کام وسدا کامراں رہے سایہ ہو سر پہ سرور خیر الانام کا