منتخب تحریرات — Page 35
۳۵ جہاد اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہے تدبر سے پڑھا یا سنا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد قطعی یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض کہ گویا اسلام نے دین کو جبڑا پھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے نہایت بے بنیاد اور قابل شرم الزام ہے اور یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے تعصب سے الگ ہو کر قرآن اور حدیث اور اسلام کی معتبر تاریخوں کو نہیں دیکھا بلکہ جھوٹ اور بہتان لگانے سے پورا پورا کام لیا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جاتا ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیا سے ان بہتانوں کی حقیقت پر مطلع ہو جائیں گے۔کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شر کا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو۔ہاں جب دشمنوں کی بدی حد سے گذرگئی اور دینِ اسلام کے مٹا دینے کے لئے تمام قوموں نے کوشش کی تو اس وقت غیرتِ الہی نے تقاضا کیا کہ جولوگ تلوار اٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے قتل کئے جائیں۔ورنہ قرآن شریف نے ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دی۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جبر کی تعلیم کی وجہ سے اس لائق نہ ہوتے کہ امتحانوں کے موقع پر بچے ایمانداروں کی طرح صدق دکھلا سکتے۔لیکن ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی وفاداری ایک ایسا امر ہے کہ اس کے اظہار کی ہمیں ضرورت نہیں۔یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ ان کے صدق اور