منتخب تحریرات — Page 33
گناه گناہ درحقیقت ایک ایسا زہر ہے جو اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب انسان خدا کی اطاعت اور خدا کی پُر جوش محبت اور محبانہ یاد الہی سے محروم اور بے نصیب ہو۔اور جیسا کہ ایک درخت جب زمین سے اکھڑ جائے اور پانی چوسنے کے قابل نہ رہے تو وہ دن بدن خشک ہونے لگتا ہے اور اس کی تمام سرسبزی برباد ہو جاتی ہے۔یہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جس کا دل خدا کی محبت سے اکھڑ ا ہوا ہوتا ہے۔پس خشکی کی طرح گناہ اُس پر غلبہ کرتا ہے۔سو اس خشکی کا علاج خدا کے قانون قدرت میں تین طور سے ہے۔(۱) ایک محبت (۲) سواس استغفار جس کے معنے ہیں دبانے اور ڈھانکنے کی خواہش۔کیونکہ جب تک مٹی میں درخت کی جڑ جمی رہے تب تک وہ سرسبزی کا امیدوار ہوتا ہے۔(۳) تیسر ا علاج تو بہ ہے۔یعنی زندگی کا پانی کھینچنے کے لئے تذلیل کے ساتھ خدا کی طرف پھرنا اور اس سے اپنے تئیں نزدیک کرنا اور معصیت کے حجاب سے اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے تئیں باہر نکالنا۔اور تو بہ صرف زبان سے نہیں ہے بلکہ تو بہ کا کمال اعمال صالحہ کے ساتھ ہے۔تمام نیکیاں تو بہ کی تکمیل کے لئے ہیں۔? ( روحانی خزائن جلد ۱۲ اسراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ ۳۲۸-۳۲۹) الله الله