منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 51

منتخب تحریرات — Page 25

۲۵ سواے دے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو۔آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقوی کی راہوں پر قدم مارو گے۔سواپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہوکر ترک کرو یقیناًآیا درکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقوی سے خالی ہے ہر ایک نیکی کی جڑ تقوی ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہوگا ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہوجیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔سوخبر دارر ہوایسانہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا سو تم اس کو مت چھوڑو اور ضرور ہے کہ تم دکھ دئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔سو ان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں ثابت قدم ہو یا نہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوندمت تو ڑو تم خدا کی آخری جماعت ہو سودہ عمل نیک دکھلا ؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔(روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح صفحه ۱۵) تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم با ہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پریٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سو اُس کا مجھ میں حصہ نہیں۔خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے بد کا رخدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔متکبر اس