منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 51

منتخب تحریرات — Page 5

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اُس میں جمالِ یار کا اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ٹرک یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا تو نے خُو دروحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھٹڑ کا نمک اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر اُن اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے گھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی ہر گل وگلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا پشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا (روحانی خزائن جلد ۲ سر مه چشمه آریہ صفحه ۵۲) توحید ایک نور ہے جو آفاقی اور انفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے۔پس وہ بجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے۔انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اور اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ میں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصور کرے اور دعا میں لگارہے تب تو حید کا نور خدا کی طرف سے اس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔روحانی خزائن جلد ۲۲ حقیقت الوحی صفحه ۱۴۸) وہ خدا نہایت وفادار خدا ہے اور وفاداروں کے لئے اس کے عجیب کام ظاہر ہوتے ہیں۔دُنیا چاہتی ہے کہ اُن کو کھا جائے اور ہر ایک دشمن ان پر دانت پیتا ہے مگر وہ جو ان کا دوست ہے ہر ایک ہلاکت کی جگہ سے ان کو بچاتا ہے اور ہر ایک میدان میں ان کو فتح بخشا ہے۔کیا ہی نیک طالع وہ شخص ہے جو اس خدا کا دامن نہ چھوڑے۔(روحانی خزائن جلد ۱۹ کشتی نوح صفحه ۲۰)