مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 38
٣٨ كُنتُمْ خَيْر أمة أخرجت الناس اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی که اهدنا الصراط المستقیم - صراط الذین انعمت عليهم كے تم افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور نا تمام رہتی اور سب کے سب اندھوں کی طرح رہتے بلکہ یہ نقص تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص ٹھہر تی تھی اور ساتھ اس کے وہ دعا جس کا پانچ وقت نماز میں پڑھنا تعلیم کیا گیا تھا اس کا سکھلا نا بھی عبث ٹھہرتا تھا۔مگر اس کے دوسری طرف یہ خرابی بھی تھی کہ اگر یہ کمال کسی فردامت کو براہِ راست بغیر پیروی نور نبوت محمدیہ مل سکتا تو ختم نبوت کے معنی باطل ہوتے تھے۔پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے مکالمہ مخاطبہ کا ملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنافی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے تھے بلکہ ان کی محویت کے آئینے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود منعکس ہو گیا تھا۔‘ ! VI- سب مذاہب کے لئے : موعود نبی کا دعویٰ: مرزا غلام احمد صاحب کا دعوی نبوت اقوام عالم اور مختلف مذاہب کے لی: مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۵ء- رساله الوصیت صفحات ۱۷-۱۹