مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 33
۳۳ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے عہد پر چودہ سو برس کے قریب مدت گذری تو وہی آفات ان میں بھی بکثرت پیدا ہوگئیں جو یہودیوں میں پیدا ہوئی تھیں تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو ان کے حق میں کی گئی تھی۔پس خدا تعالیٰ نے ان کے لئے بھی ایک ایمان کی تعلیم دینے والا مثیل مسیح اپنی قدرت کاملہ سے بھیج دیا۔مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے۔چاہو تو قبول کرو۔“ - امتی نبی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ: ۱۸۹۰ء سے ۱۹۰۰ ء تک مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اسی مسلک پر قائم رہے کہ آپ کے متعلق الہامات میں اور احادیث نبوی میں جو نبی اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ عجازی رنگ میں ہے۔اس سے مقصود فقط کثرتِ مکالہ و مخاطبہ کا شرف ہے جسے محدثیت سے موسوم کرنا چاہیے نہ کہ نبوت سے۔اس وقت تک عام مسلمانوں کی طرح آپ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی کے لئے نئی شریعت لانا یا شریعت سابقہ کے بعض حصوں کی ترمیم یا تنسیخ کرنا یا کم از کم کسی نبی کے فیض کے بغیر براہ راست اس فیض تک پہنچنا لازمی ہوتا ہے۔جب کہ آپ اپنے آپ کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے طفیل ہی دین اسلام کی تجدید کے لئے مامور سمجھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفش برداری کو تخت شاہی سے افضل اور اپنے لئے سب سے بڑا اعزاز سمجھتے تھے لیکن اس کے بعد متواتر الہامات نے مرزا صاحب کو اس مسلک پر قائم نہ رہنے دیا۔خدا ل : مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ۱۸۹۱ ء - فتح اسلام طبع اول ریاض هند پریس امرتسر حاشیه صفحات ۱۴- ۱۵