مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 290
۲۹۰ جواب میں از راہ ہمدردی بتائی تھیں اور ان سے سلطان ترکی کی شان میں بے ادبی کرنا مقصود نہ تھا۔ان کو سُن کر جناب حسین کا می صاحب حیرت زدہ رہ گئے اور اُنہوں نے مرزا صاحب کے انکشافات کا بہت بُرا منایا۔قادیان سے واپس جانے کے بعد جناب حسین کامی صاحب نے مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف ایک نہایت اہانت آمیز خط لکھ کر شیعہ مکتبہ فکر کے ایک اخبار ناظم الہند لا ہور کی ۱۵رمئی ۱۸۹۷ء کی اشاعت میں چھپوا دیا۔اس خط میں جناب حسین کا می صاحب نے مرزا صاحب کے خلاف بہت گندے اور اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے جن میں مرزا صاحب کو نمرود اور شداد اور شیطان لکھا نیز جھوٹا اور مردود قرار دے کر مرزا غلام احمد صاحب کو مورد غضب الہی قرار دیا۔لے یہ خط ہی کیا کم تھا کہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسی اشاعت میں ایڈیٹر ناظم الہند نے اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ یہ نائب خلیفہ اللہ سلطان روم ( یعنی حسین کا می۔ناقل ) جو پاک باطنی اور دیانت اور امانت کی وجہ سے سراسر نور ہیں یہ اس لئے قادیان میں بلائے گئے ہیں کہ تا مرزائے قادیان اپنے افترا سے اس نائب الخلافت یعنی مظہر انوار الہی کے ہاتھ پر تو بہ کرے اور آئندہ اپنے تئیں مسیح موعود ٹھہرانے سے باز آ جائے ہے ل : حسین کامی۔وائس کونسل ترکی ۱۸۹۷ ء - خط اخبار ناظم الہند۔لاہور ۱۵ رمئی ۱۸۹۷ء ( مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی۔حصہ دوئم۔صفحات ۴۱۸ - ۴۱۹ ) ے ایڈیٹر اخبار ناظم الہند لاہور۔۱۵ رمئی ۱۸۹۷ ء - ( تریاق القلوب۔مرزا غلام احمد صاحب ۱۹۰۰ - صفحه ۲۷۹)