مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 266
۲۶۶۔۔۔کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بُری طرح اس کو خراب کیا گیا ہے حضرت ( مرزا غلام احمد صاحب - ناقل ) کا چہرہ مبارک متغیر اور غصے سے سُرخ ہو گیا۔یکا یک آپ کی زبان سے نکلا اچھا تم اپنی گورنمنٹ کو خوش کر لو۔نیز یہ دعا کی کہ اُن کی عزت چاک کر دی جائے۔لے یہ واقعہ ۱۸۸۳ء کا ہے۔مرزا صاحب نے جب براہین احمدیہ حصہ چہارم شائع کی تو اس واقعہ کا پھر تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سو ہم بھی نواب صاحب کو اُمید گاہ نہیں بناتے بلکہ اُمید گاہ خداوند کریم ہی ہے اور وہی کافی ہے۔( خدا کرے گورنمنٹ انگریزی نواب صاحب پر بہت راضی رہے )‘ ۲ مرزا غلام احمد صاحب کے منہ سے نواب صدیق حسن خاں کے بارے میں یہ انذاری الفاظ ” کہ اُن کی عزت چاک کر دی جائے ۱۸۸۳۴ء میں براہین احمدیہ کی توہین کرنے پر نکلے تھے کہ وہی سلطنت انگریزی جس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نواب صاحب نے مرزا صاحب کے ساتھ یہ ناروا سلوک کیا تھا اُسی گورنمنٹ نے نواب صاحب پر متعدد الزامات عائد کر کے اُن کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھا دیا۔ان الزامات میں ریاست بھوپال میں بے گناہوں کے قتل سوڈانی مہدی کو امداد بھجوانے اور اپنی تصانیف میں گورنمنٹ انگریزی کے خلاف بغاوت کی ترغیب جیسے سنگین الزامات شامل تھے ان تحقیقات کا یہ نتیجہ نکلا کہ اُن کے نوابی کے خطابات ل : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی۔تتمہ صفحہ ۳۷ ے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۸۸ء- براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه - و (۳۲۰)