مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 218
۲۱۸ 1- شکا گوانٹر پریٹر ۲۸ جون ۱۹۰۳ ء نے مرزا غلام احمد قادیانی اور ڈاکٹر ڈوئی کی تصاویر ساتھ ساتھ دے کر کیا ڈوئی اس مقابلے میں نکلے گا“ کے عنوان کے تحت لکھا کہ (ترجمه) ”مرزا صاحب کہتے ہیں ڈوئی مفتری ہے اور میں دُعا کرنے والا ہوں کہ وہ اُسے میری زندگی میں نیست و نابود کر دے اور پھر کہتے ہیں کہ جھوٹے اور بچے میں فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ خدا سے دعا کی جائے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ بچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاوے۔ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ ء نے لکھا کہ (ترجمہ) ”مرزا غلام احمد صاحب پنجاب سے ڈوئی کو چیلنج بھیجتے ہیں کہ اے وہ شخص جو مدعی نبوت ہے آ اور میرے ساتھ مباہلہ کر۔ہمارا مقابلہ دُعا سے ہوگا اور ہم دونوں خدا تعالیٰ سے دُعا کریں گے کہ ہم میں سے جو شخص کذاب ہے وہ پہلے ہلاک ہو۔“ سے اخبار آرگوناٹ سان فرانسسکو نے یکم دسمبر ۱۹۰۲ء کو اشاعت میں زیر عنوان انگریزی اور عربی ( یعنی عیسائیت اور اسلام ) مقابلہ دُعا لکھا کہ (ترجمہ) ”مرزا صاحب کے مضمون کا خلاصہ جو ڈوئی کو لکھا ہے یہ ہے کہ تم ایک جماعت کے لیڈر ہو اور میرے بھی بہت سے پیرو ہیں پس اس بات کا فیصلہ کہ خدا کی طرف سے کون ہے؟ ہم میں اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا سے دُعا کرے اور جس کی دُعا قبول ہو وہ سچے خدا ۱ ، ۲ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء۔حقیقت الوحی۔تتمہ صفحہ ۷۰