مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 165
ܬܙ ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ چونکہ پنجاب اور ہندوستان کے مسلمان علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کو خارج از اسلام قرار دیا ہے لہذا وہ اسلام کے وکیل نہیں ہو سکتے۔اے مرزا صاحب نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو طے شدہ مباحثے پر قائم رہنے کے لئے مندرجہ ذیل دلائل لکھ کر بھجوائے۔ا۔دونوں فریقوں کے درمیان مباحثے کا معاہدہ تحریری طور پر طے ہو چکا ہے اس -1 -۲ لئے کوئی فریق کسی بھی عذر کی بنا پر اس سے انحراف نہیں کر سکتا۔آپ نے بطور نمونہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کو تین بزرگ اور مقتدر مسلمانوں کی تحریریں بھجوائیں جن میں لکھا تھا کہ وہ مرزا صاحب جیسے نیک سیرت انسان کو مسلمانوں کا امام سمجھتے ہیں۔تکفیر کے ضمن میں مرزا صاحب نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو یاد دلایا کہ پروٹسٹنٹ عیسائی کیتھولک فرقے کو کافر بلکہ واجب القتل یقین کرتے ہیں۔اس طرح وہ خود بھی اس الزام سے خالی نہ تھے۔اصل بحث تو حق اور باطل کے درمیان ہے۔ہم نے اسلام اور قرآن کی وکالت کرنی ہے اور آپ نے اناجیل کی اس سے فتاویٰ کفر کا کیا تعلق؟ ۲ ان حالات میں عیسائیوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ یک طرفہ طور پر طے شدہ معاہدہ کو منسوخ کر دیتے۔چنانچہ ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ء سے ۵/جون ۱۸۹۳ء تک ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی کوٹھی پر امرتسر میں جاری رہا اور اس طرح ۱۵ دن میں اختتام پذیر : اخبار نورافشان (عیسائی) ضمیمه ۱۲ مئی ۱۸۹۳ء : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۴ء سچائی کا اظہار