مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 140
الده شُبہات پیدا کر سکتا تھا چنانچہ مرزا صاحب نے ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء کو ایک رسالہ ”قادیان کے آریہ اور ہم شائع کیا۔اس رسالے میں مرزا صاحب نے بطور نمونہ اپنی چند پیشگوئیاں لکھ کر لالہ شرمیت اور ملا دال کو چیلنج دیا کہ وہ خدا کی قسم کھا کر کہہ دیں کہ یہ پیشگوئیاں انہوں نے پوری ہوتے نہیں دیکھیں نیز یہ کہ اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو خدا ان پر اور ان کی اولاد پر اس جھوٹ کی سزا نازل کرے۔اس چیلنج کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے لکھ دیا کہ یہ لوگ اس طرح ہر گز فتسم نہ کھائیں گے بلکہ حق پوشی کا طریق اختیار کریں گے اور سچائی کا خون کرنا چاہیں گے تب بھی میں اُمید رکھتا ہوں کہ حق پوشی کی حالت میں بھی خدا اُن کو بے سزا نہیں چھوڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی بے عزتی خدا کی بے عزتی ہے۔“ 1 اس دوران قادیان کے آریہ اخبار شبھ چنتک کی طرف سے مرزا صاحب کی اہانت بھی انتہا کو پہنچ چکی تھی اور لالہ شرمیت اور ملا دامل بھی سچائی کے اظہار سے کترا رہے تھے۔انہی حالات میں مرزا صاحب نے اپنے رسالے ” قادیان کے آریہ اور ہم“ کے ٹائٹل کے اندرونی صفحہ پر کچھ اشعار لکھے جن میں آخری شعر یہ تھا۔وو میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشان دکھلا 66 مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء - قادیان کے آریہ اور ہم۔(روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۴۳) : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء - قادیان کے آریہ اور ہم۔ٹائٹل اندرونی صفحہ