مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 138
اس اخبار نے یکم مارچ ۱۹۰۷ء کی اشاعت میں لکھا کہ ہم نے۔۔۔۔پندرہ سال تک پہلو بہ پہلو ایک ہی قصبہ میں ان کے ساتھ رہ کر ان کے حال پر غور کی تو اتنی غور کے بعد ہمیں یہی معلوم ہوا کہ یه شخص در حقیقت مکار، خود غرض ،عشرت پسند، بد زبان وغیرہ وغیرہ ہے نشان تو ہم نے اس مدت تک کوئی نہیں دیکھا البتہ یہ دیکھا ہے کہ یہ شخص ہر روز جھوٹے الہام بناتا ہے۔ایک لاثانی بے وقوف ہے۔“ مرزا غلام احمد صاحب کا رد عمل : آریوں کی طرف سے مرزا صاحب کی ایذارسانی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ۲۷ دسمبر ۱۹۰۶ء کے دن جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر جب مرزا صاحب مسجد اقصی قادیان میں نماز پڑھ رہے تھے تو ایک آریہ نے بے تحاشہ گالیاں دینی شروع کر دیں۔مرزا صاحب اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وو ” جب ہم مع اپنی جماعت کے جو دو ہزار کے قریب تھی اپنی جامع مسجد میں نماز میں مشغول تھے اور دور دور سے میری جماعت کے معزز لوگ آئے ہوئے تھے جن میں گورنمنٹ انگریزی کے بھی بڑے بڑے عہدے دار اور معزز رئیس اور جاگیردار اور نواب بھی موجود تھے تو عین اس حالت میں۔۔۔ایک نا پاک طبع آریہ برہمن نے گالیاں دینی شروع کیں اور نعوذ باللہ ان الفاظ سے بار بار گالیاں دیتا تھا کہ یہ سب کنجر ایک جگہ جمع ہوئے ہیں کیوں باہر جا کر نماز نہیں پڑھتے اور پہلے سب سے