معجزات القرآن — Page 56
”“ 109 ان کی پوری عمر کا آئینہ دار ہوں یعنی مجھ پر 1325 کا سن ختم ہوتا ہے۔8۔پھر بتایا کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی عمر 1300 سال کے بعد اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے اعداد کے برابر ہے یعنی 1073 سال ہے اور 1302 کے بعد لفظ غلام کے اعداد کے برابر ہے یعنی 1071 سال اور یہ کہ 1302 کے اعداد غلام 1071 ، ابوبکر۔231 کے اعداد ہیں اور 1303 کے بعد نشاۃ ثانیہ کی عمر لفظ مغل کے اعداد کے برابر ہے یعنی 1070 سال زائداور 1303 کے اعداد احمد غُلامُكَ اسمه احمد کے اعداد ہیں اور ملت کی مجموعی عمر کے حامل مندرجہ ذیل کلمات کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں یعنی احمد غُلَامُكَ اسمه احمد مغل یعنی اے احمد تیرے غلام کا نام احمد مغل ہے۔شاید اس موقع پر کوئی اعتراض کرے کہ لفظ مغل ایک بے معنی لفظ ہے لہذا اس کو اہمیت دینا محض تکلف ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ مغل عربی زبان کا لفظ ہے اور مغل کے معنی ہیں شکار الی السلطان یعنی بادشاہ کے پاس شکایت کی۔سوحضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے دجال اور یا جوج ماجوج کے خلاف اللہ تعالیٰ کے سامنے شکایت کرتے ہوئے فرمایا:۔قَدْ لَسُوا الْبُلْدَانَ مِنْ أَهْرًا بِهِمْ یعنی ان لوگوں نے اپنی پلیدگی سے شہروں اور بستیوں کو پلید کر دیا ہے۔پھر فرمایا: - يَا رَبِّ سَحْقُهُمْ كَسَحُقِكَ طَاغِيًا۔نیز یہ دعا کی:۔يَارَب سَلْطَنِى عَلَى جُدُرَانِهِمْ نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 126 ، 128 ) یعنی اے خدا تو ان لوگوں کو اس طرح پلیس جس طرح تو ہمیشہ سرکش قوموں کو “ 110 پیتا رہا ہے اور اے خدا تو مجھے اُن کے درو دیوار پر مسلط فرما دے۔9۔پھر ہمیں بتایا کہ عمر دنیا بحساب قمری چندا کائیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے 7100 سال بحساب قمری ہے۔اور بحساب شمسی 6900 سال ہے۔10۔سورۃ فاتحہ نے عمر دنیا کا حساب بسم اللہ کے تحت رکھا اور ملتِ اسلامیہ کی عمر کا حساب الحمد للہ کے تحت رکھا تا ظاہر ہو کہ یہ کائنات اسماء اللہ کی مظہر ہے۔اور اس 66299 کائنات میں امت محمدیہ علاوہ اسماء اللہ کے حمد اللہ کی بھی مظہر ہے۔11 - حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ سے مجھے ایک عزت کا خطاب عنایت ہوا ہے۔وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔عجیب بات ہے کہ بِسْمِ اللہ سے لے کر عَلَيْهِمُ کے حرف میم تک اگر اعداد شمار کئے جائیں تو حضور کاسن پیدائش بعد از پیدائش آدم علیہ السلام سامنے آ جاتا ہے جو 5980 ہے حالانکہ حضور کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کلمات میں آپ کا سن پیدائش موجود ہے۔اس موقع پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہم نے حروف ابجد کی بحث میں بتایا تھا کہ ان حروف کی جو الف سے شروع ہوتے ہیں اور حرف ”غ “ پر ختم ہوتے ہیں، مجموعی عددی قیمت 5995 ہے اور اب جبکہ مسیح موعود علیہ السلام کا سن پیدائش 5980 ہمارے سامنے آیا تو یہ حقیقت بھی از خود ہمارے سامنے آ گئی کہ 5995 میں آپ پندرہ ،سولہ سال کے لڑکے تھے اور عربی زبان میں اس عمر کے بچے کو عموماً غلام کہا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ حروف ابجد میں حرف ”الف“ سے آدم کے نام کی طرف اشارہ ہے اور حرف ”غ “ پر اس غلام کی پندرہ سولہ سال کی عمر دکھائی گئی ہے۔یہ تصرف الہی ہے کہ اس نے حروف ابجد میں پہلے سے ہی آپ کے زمانے کی نشاندہی کا اہتمام کر رکھا تھا۔خلاصہ یہ کہ سورۃ فاتحہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کے ہراہم وو 66°