مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 324
324 کرنا تھا، اس لیے خدا تعالیٰ نے ان کی برکت کیلئے فرمایا کہ ان کی پیدائش روح اللہ سے تھی، کسی گناہ کا نتیجہ نہ تھی۔اور کسی ایسے فعل کا نتیجہ نہ تھی جو خدا کی شریعت کے خلاف ہو بلکہ کلمۃ اللہ کے مطابق تھی۔پس روح اللہ اور کلمتہ اللہ کے الفاظ سے مسیح کی پیدائش کا ذکر کر نا عظیما نہیں بلکہ اس کی برأت کیلئے ہے۔آپ نے یہ بھی بتایا کہ کوئی وجہ نہیں ہم مسیح کی پیدائش کو قانون قدرت سے بالا سمجھیں۔ایسی پیدائش اور انسانوں میں بھی ہو سکتی ہے اور حیوانوں میں تو یقیناً ہوتی ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ کیوں خدا تعالیٰ نے انہیں بن باپ پیدا کیا؟ باپ سے ہی کیوں نہ پیدا کیا۔تو اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق بنی اسرائیل میں سے متواتر انبیاء آرہے تھے۔جب ان کی شرارت حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے مسیح کی پیدائش کے ذریعہ سے انہیں آخری بار تنبیہ کی اور بتایا کہ اب تک ہم معاف کر کے تمہارے اندر سے نبی بھیجتے رہے ہیں مگر اب ہم ایک ایسے انسان کو بھیجتے ہیں جو ماں کی طرف سے بنی اسرائیل ہے اور باپ کی طرف سے نہیں۔اگر آئندہ بھی باز نہ آؤ گے تو ایسا ہی آئے گا جو ماں اور باپ دونوں کی طرف سے غیر اسرائیلی ہوگا۔چنانچہ جب بنی اسرائیل نے اس تنبیہہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور شرارت میں بڑھتے گئے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا جو کلی طور پر بنی اسرائیل سے جدا تھے۔پس حضرت مسیح کی بن باپ پیدائش بطور رحمت کے نہیں بلکہ بنی اسرائیل کیلئے بطور انذار تھی۔چنانچہ اس کا انجام یہی ہوا۔دوسری غلطی مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق یہ گی ہوئی تھی کہ مسلمان خیال کرتے تھے کہ صرف حضرت مسیح اور ان کی ماں میں شیطان سے پاک تھیں اور کوئی انسان ایسا نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق بتایا کہ کل انبیاء بلکہ مؤمن بھی مس شیطان سے پاک ہوتے ہیں۔چنانچہ مؤمنوں کو حکم ہے کہ جب وہ بیوی کے پاس جائیں تو یہ دعا پڑھا کریں۔اللهم جنب الشيطان و جنب الشيطن ما رزقتنا ( بخاری کتاب الوضوء باب التسمیه علی کل حال وعند الوقاع )۔اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے بچا اور میری اولاد کو بھی بچا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو بچہ پیدا ہوگا اسے شیطان میں نہ کرے گا۔یہ گر رسول کریم ﷺ نے مسن شیطان سے اولاد کو محفوظ رکھنے کا بتایا ہے۔پس جب امت